کراچی (ویب ڈیسک) فرنٹیئر کالونی کی مسجد کے پیش امام مولانا عبدالرحمان کو 19 جولائی 2012ءکی صبح نماز فجر کی امامت کے دوران نامعلوم دہشت گرد گولیوں کا نشانہ بنا کر بھاگ گئے تھے۔ حالتِ سجدہ میں شہید ہونے والے مولانا عبدالرحمن کی قبر پر اکثر نماز فجر کے بعد کچھ سفید پوش بزرگ فاتحہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں تاہم اگر کوئی قریب جانے کی کوشش کرتے تو وہ اوجھل ہو جاتے ہیں۔
فرنٹیئر کالونی قبرستان میں باقاعدہ گورکن نہیں ہیں، بلکہ علاقے کے لوگ خود مل کر قبریں بناتے ہیں۔روزنامہ امت کے مطابق علاقہ مکین ضیاءاللہ کا کہنا تھا کہ اس قبرستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے شکار کئی شہیدا دفن ہیں، جن کی قبروں سے خوشبو پھوٹتی رہتی ہے۔ ضیاءاللہ نے بتایا کہ فرنٹیئر کالونی کی مسجد کے پیش امام مولانا عبدالرحمان کو 19 جولائی 2012ءکی صبح نماز فجر کی امامت کے دوران نامعلوم دہشت گرد گولیوں کا نشانہ بنا کر بھاگ گئے تھے۔ حالتِ سجدہ میں شہید ہونے والے مولانا عبدالرحمن کی قبر پر اکثر نماز فجر کے بعد کچھ سفید پوش بزرگ فاتحہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی قریب جانے کی کوشش کرتے تو وہ اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ان کی قبر پر اطراف کی مساجد کے نمازیوں ، علاقہ مکینوں اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے لوگ بھی فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں ، جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شہید کے صدقے میں ان کے گناہ معاف کردے۔ کئی لوگ رو روکر دعائیں کرتے ہیں۔ ضیاءاللہ نے بتایا کہ شہید پیش امام علاقے کے سینکڑوں بچوں کو قرآن پاک پڑھا چکے تھے۔
